X
تبلیغات
بزم رأفت - انجمن شعر و ادب اردو زبان

بزم رأفت - انجمن شعر و ادب اردو زبان
جامعـه المصطفی(ص) العالمیه واحد مشهد مقدس
قالب وبلاگ

غدیر کی اہمیت و عظمت

مقالہ نگار:سید محمد حسن رضوی(الہ آبادی)  

حجة الوداع

                پیغمبر اسلامۖ نے  ١٠ ھ میں لوگوں کے درمیان یہ اعلان کرایا کہ سب لوگ حج بیت اللہ کی زیارت کے لئے آمادہ ہوجائیں۔لوگوں کی ایک بڑی جماعت گروہ در گروہ مدینہ پہنچ گئی۔ حضورۖ اکرم بھی اس میں شامل ہوگئے۔رسولۖ خدا نے نہ تو اس سے پہلے اور نہ اس کے بعد کوئی حج انجام نہیں دیاہے،یعنی یہ آپ کا پہلا اور آخری حج تھا اور اس حج کو تاریخ میں:''حجة الوداع''،''حجة الاسلام''،''حجة البلاغ''، ''حجة الکمال'' اور''حجة التمام'' کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بعض تواریخ کے مطابق سر کار دو عالمۖ نے سنیچر کے دن ٢٣ یا ٢٤ ذیقعدہ کو احرام کے دو ٹکڑوں کو زیب تن فرمایا اور احرام باندھنے کے لئے مدینہ کے نزدیک ،''مسجد شجرہ'' تک آئے، پھر مدینہ سے پا پیادہ باہر آئے اور لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے ساتھ اللہ کے گھر کی زیارت کی غرض سے چل پڑے اور اس سفر میں مہاجرین و انصار کے علاوہ دیگر علاقہ کے لوگوں نے بھی شرکت کی۔

بعض کتب میں ملتا ہے کہ اس زمانہ میں ٹائیفائڈ اور چیچک وغیرہ کی بیمار ی پھیلی ہوئی تھی،اسی وجہ سے بہت سے لوگ اس قافلہ میں شریک نہیں تھے۔لیکن اس کے باوجود ایک بڑی جماعت پیغمبرۖ اکرم کے ساتھ حج بیت اللہ کے لئے روانہ ہوگئی،جس کی تعداد کے بارے میں علمائے تاریخ کے نزدیک اختلاف پایا جاتا ہے۔بعض کہتے ہیں کہ ٩٠ہزار یا ایک لاکھ چوبیس ہزار یا اس سے زیادہ کی تعداد میں مسلمان پیغمبرۖ اکرم کے ہمراہ اس سفر کیلئے روانہ ہوئے،جس کی صحیح تعداد سے خدا ہی واقف ہے۔لیکن آپ کے ساتھ حج کو انجام دینے والوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ تھی۔اس لئے کہ خود مدینہ سے ٨٠ ہزار افراد نے موسم حج میں شرکت کی تھی۔(منزلت غدیر٢٠) مکہ اور یمن کے لوگ ،جو ابو موسیٰ اور حضرت علی  کی سر براہی میں آئے تھے سارے مسلمان سرکار دوعالمۖ سے جاملے۔ چنانچہ آپ صبح کے وقت''یلملم''پہنچے،جہاں سے احکام اسلام کے مطابق یمن والے احرام باندھتے ہیں ۔

سرکار دوعالمۖ غروب کے وقت''شرف الیبالہ''میں تھے،لہٰذا مغربین کی نماز وہیں پڑھی۔دوسرے دن صبح کی نماز''عرق ظبید''میں پڑھی اس کے بعد''روحائ''نامی مقام پر پڑاؤ ڈالا۔پھر وہاں سے کوچ کرکے نماز عصر''منصرف''میں اور مغربین''متعشیٰ''میں بجا لائے اور وہیں رات میں کھانا کھا کر آرام کیا اور پھر دوسرے دن صبح کی نماز کو''اثابہ''میں ادا کی،یہاں تک کہ اگلے دن بروز سہ شنبہ کو''عرج''نامی مقام پر پہنچے۔اس کے بعد''الحی الحمل''نامی مقام پر حجامت کروائی اور مقام''سقیا''پر قیام کیا۔

اگلے دن یعنی پنجشنبہ کو صبح کی نماز ''ابوائ'' نامی مقام پر بجا لائے۔یہی وہ مقام ہے، جہاں آپ کی والدۂ ماجدہ حضرت آمنہ کی قبر ہے الغرض وہاں سے جمعہ کے دن ''جحفہ'' اور وہاں سے'''قریہ'' پہنچے اور شنبہ کو وہاں پر قیام فرمایا یکشنبہ کو''عسفان'' پہنچے اور''غمیم''کی طرف کوچ کرگئے۔

واضح رہے کہ یہی وہ جگہ ہے کہ جہاں لوگوں نے شکایت کی کہ یا رسول ۖاللہ!ہم تھک گئے ہیں۔پیغمبرۖ نے فرمایا:دوڑنے کا سہارا لو،جب لوگوں نے ایسا کیا تو تھکن بالکل کافور ہوگئی اور تمام لوگوں میں دوبارہ تازگی آگئی۔آخر کار اللہ کے رسول بروز سہ شنبہ مکہ میں وارد ہوئے اور اعمال حج انجام دیئے اور حج پورا کرنے کے بعد مدینہ سے لوٹتے ہوئے، تمام مسلمانوں اور حجاج کے ساتھ ١٨ذی الحجہ کو مقام''جحفہ'' پر پہنچے، جہاں سے مدینہ، مصر وعراق اور دیگر ممالک کے راستے جد اہوتے تھے۔

 اسی مقام پر جبرئیل امین ،اللہ کے پیغام کو لے کر نازل ہوئے اور پیغام خدائے عزوجل کو آیت کی صورت میں پہنچایا:

''یَاَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا ُنزِلَ ِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ ِنَّ اﷲَ لاَیَہْدِی الْقَوْمَ الْکَافِرِینَ''

اے رسولۖ وہ پیغام پہنچا دو جو تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل ہوچکا ہے اور اگر آپ نے یہ کام نہیں کیا تو گویا رسالت ہی انجام نہیں دیا۔ تمہارا خدا تمہیں لوگوں کے شر سے بچائے گا۔بیشک خدا کافروں کی ہدایت نہیں کرتا۔

وا ضح رہے کہ یہ آیت حضرت علی کی شا ن میں نا زل ہو ئی ہے اور وا قعہ غدیر سے متعلق ہے ۔جن صحا بہ کرام سے یہ روایت نقل کی گئی ہے ان میں زید بن ارقم ،ابو سعید حذری،ابن عبا س جا بر ابن عبدا للہ انصا ری ، ابو ہریرہ اور برا ء بن عا زب شا مل ہیں ۔

(١)  فخر را زی نے اپنی تفسیر ج١٢ص٤٢میں ابن عبا س ، برا ء بن عا زب اور اما م محمد با قر سے روا یت کو نقل کیا ہے ۔

(٢)ابن کثیر دمشقی روا یت کرتے ہیں۔ (بدا یہ و نھا یہ ابن کثیر ج٥ص١٨٣،١٨٩)

(٣) شیخ محمد عبدہ اپنی تفسیر میں آیت بلا غ کے ذیل میں ابی سعید حذری سے نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت غدیر خم کے دن علی ابن ابی طالب کی شا ن میں نا زل ہو ئی ہے وہ مسند احمد سے برا ء بن عا زب و برید سے اس طرح تر مذی و نسا ئی و ضیا ء کے ذریعہ زید بن ارقم سے اور ابن ما جہ کے ذریعہ برا ء سے نقل کرتے ہیں کہ حدیث من کنت مولاہ فعلی مولاہ رسو ل خدا نے ارشا د فر ما ئی تھی ،اس حدیث میں اللھم وا ل من والاہ و عاد من عاد اہ کا بھی ذکر ہے ۔ (تفسیر المنا ر ج٦ص٤٦٣،٤٦٥)

(٤) علا مہ سیو طی الد رالمنثو ر میں آیت شریفہ ابلا غ کے ذیل میں لکھتے ہیں کہ ابو سعید حذری نے کہا یہ آیت حضرت علی کی شا ن میں غدیر خم میں نا زل ہو ئی ، ابن مر دو یہ ابن مسعو د سے نقل کرتے ہیں کہ انھو ں نے کہا کہ ہم رسو ل خدا کے زما نہ میں اس آیت کو یو ں پڑھتے تھے یا یَاَیُّہَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا ُنزِلَ ِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ وَِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَہُ وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ(تفسیر در المنثور ج٢ ص٢٩٨)

پھر جبرئیل نے کہا :اے اللہ کے رسول خدا کا فرمان ہے کہ علی  کا تعارف امام اورولی کے عنوان سے کرائیں اور اعلان کردیں کہ علی  کی اطاعت تمام لوگوں پر واجب ہے اور پھر اس کے فوراً بعد پیغمبرۖ اکرم نے اعلان کیا کہ جو آگے بڑھ گئے ہیں وہ پیچھے آجائیں اور جو پیچھے رہ گئے ہیں ان کا انتظار کیا جائے۔ اس طرح سے پیغمبرۖ کے حکم سے مجمع ایک جگہ پر جمع ہوگیا،جس کو غدیر خم کے نام سے جانا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ جہاں پیغمبرۖ نے مجمع کو روکنے کا حکم دیا تھا، وہاں ایک تالاب تھا،جس کو عربی میں''غدیر''کہتے ہیں اور اس کے صحیح محل وقوع میں تاریخ وحدیث کی زبان میں خم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔(معجم البلدان،ج٢،ص٣٨٩)

رسولۖ اکر م نے اونٹوں کے کجاوؤں کا منبر تیار کیا اور جب یہ سارا انتظام مکمل ہوچکا ،یہاں تک کہ ظہر کا وقت آپہنچا تو بلال نے اذان کہی اور سرکار ختمی مرتبتۖ اپنی جا نماز کی طرف بڑھے، اپنا مصلیٰ درست کرکے نماز شروع کردی اور ختم نماز کے بعد حبیب الٰہی نے حیرت سے مجمع کی طرف نگاہ کی اور اس کے بعد ایک انوکھے اور تاریخی منبر کی طرف رخ کرنے سے پہلے یادگار انبیاء صحف آدم ونوح وابراہیم علی نبینا وعلیہم السلام، تورات،انجیل ، اعصائے موسیٰ وانگشتر سلیمان علی نبینا اورباقی تمام انبیاء کی میراث، جس کے محافظ سرکار دوعالمۖ۔حضورۖ نے علی  کو بلایا اور انبیائے ماسبق کی میراث کو علی  کے سپرد کیا جو آپ کے بعد گیارہ ائمہ  تک منتقل ہوتی رہی۔گویا پیغمبرۖ اکرم مجمع کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ انبیائے کی میراث اس کے وصی کو ہی ملتی ہے اور اس کے علاوہ کسی اور کو نہیں ملتی ۔

اب میرا ایک سوال ان لوگوں سے ہے جو غدیر کے بعد حضرت علی  کی خلافت کے منکر ہوگئے،آیا وہ لوگ مسئلہ میراث سے واقف نہیں تھے؟اگر وہ میراث کے رموز اور شرائط سے واقف تھے تو پھر علی  کی خلافت میں انکار کیسا؟کیا انہوں نے گذشتہ انبیاء کی میراث کو مد نظر نہ رکھا کہ میراث انبیاء میں جہاں ساری چیزیں، اس کے وصی کو ملتی ہیں وہیں جانشینی بھی ملتی ہے ۔پس اگر لوگ علی  کی ولایت وخلافت کے منکر ہوگئے گویا وہ لوگ انبیاء کے بھی منکر ہوگئے اس لئے کہ جہاں پر وصی کو انبیاء نے جس میراث سے نوازا ہے،اس میں مسئلہ خلافت بھی ہے یعنی میرے بعد تم ہی وصی ہوگے۔لہٰذا اگر ایک علی  میں سارے انبیاء کی وراثت منتقل ہوجائے تو بدرجہ اولیٰ خلافت کے حقدار حضرت علی  ہی قرار پائیں گے اس لئے کہ ہر نبی کو اللہ نے اس کے زمانہ میں معجزہ دے کر بھیجا اور کتابیں دیں،نیز اس نبی کے ایک وصی کا انتظام کیا،جو تبلیغ دین میں نبی کی مدد کرے پس علی  وہ ہیں ،جن کو پیغمبرۖ اکرم نے صحفِ آدم و نوح وابراہیم اور آسمانی کتابوںسے نوازا ۔

 حضرت سلیمان کی انگوٹھی اور انبیاء کی میراث کے مطابق خلافت ووصایت سے نوازا تو اس میں حیرت کی کیا بات ہے،جو لوگ علی  کی بلا فصل خلافت کے قائل نہیں ہیں،ان کا جواب یوم غدیر پیغمبرۖ اکرم کا یہ جملہ دے رہا ہے۔''من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ''حضرت علی  کی خلافت بلا فصل ہے۔

اس قول پر دلیل یہ ہے کہ پیغمبرۖ اکرم کے اس جملہ میں جو حرف''ف'' موجود ہے وہ عربی ادب کے قواعد کے مطابق ترتیب اور فوراً بعد کے لئے آتا ہے۔ایسی صورت میں اس جملہ کا مطلب یہ ہے کہ میں جس کا مولا ہوں،پس بلا فاصلہ علی  اس کے مولا ہیں۔لیکن اگر(ف)کی جگہ پر ثم کو پیغمبرۖ اکرم اپنے جملہ میں لائے ہوتے یعنی''من کنت مولاہ ثم ھذا علی مولاہ'' اس جملہ کا انداز یہ بتا رہا ہے کہ میں جس کا مولا ہوں علی  اس کے مولا ہیں چاہے جب بھی ہوں۔ پس اس خلافت میں فاصلہ ہے اس لئے کہ حرف ثم ترتیب اور مہلت کے لئے استعمال ہوتا ہے، لہٰذا ثابت ہوگیا کہ علی  کی خلافت بلا فصل ہے اور قابل غور بات یہ ہے کہ ہمارے عقیدہ کے مطابق حدیث''من کنت مولاہ فعلی مولاہ ''لفظ مولا سے مراد علی  کی امامت ورہبری و خلافت ہے۔ اہل سنت علماء نے لکھا ہے کہ چونکہ مولا کے مختلف معنی ہیںلہٰذا اس حدیث میں مولا حکومت، ولایت اور رہبری کے معنی میں نہیں آیا ہے بلکہ دوست اور ناصر کے معنی میں آیا ہے۔

ابن صباغ لکھتے ہیں :''من کنت ناصرہ او حمیمہ وصدیقہ فان علیاً یکون کذالک''جس کا میں ناصر، رشتہ دار اور دوست ہوں اس کا علی بھی ناصر ودوست،رشتہ دار ہے۔(الفصول المھمہ،ص٤٣)

کیا حدیث کا اس طرح معنی کرنا درست ہے؟

اہلسنت کے مشہور عالم نے اس موضوع کے ساتھ انصاف سے کام لیا ہے۔وہ'' الست اولیٰ بالمومنین من انفسھم''کے قرینہ کو مد نظر رکھتے ہوئے حدیث غدیر میں موجود کلمہ مولا کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں :''ھذا نص صریح فی اثبات امامتہ وقبول طاعتہ''علی  کی امامت کے اثبات اور قبول اطاعت کے لئے یہ نص صریح ہے۔(تذکرة الخواص ابن جوزی حنفی،ص٢٠)

درج بالا مقدمہ کو مد نظر رکھتے ہوئے حدیث غدیر میں موجود لفظ مولا سے جو پیغمبر اکرمۖ کی مراد ہے وہ پوری طرح واضح ہے ۔

اور اس سلسلہ میں دوسری دلیل یہ ہے کہ حضرت علی  سے تمام مومنین کی دوستی کوئی مخفی اور پیچیدہ چیز نہ تھی کہ جس کے لئے اس قدر تاکید اور بیان کی ضرورت ہوتی،اور اس بات کی کوئی ضرورت نہ تھی کہ اس بے آب وگیاہ اور جلتے ہوئے بیابات میں اس عظیم قافلہ کو دوپہر کی دھوپ میں روک کر ایک طویل ومفصل خطبہ دیا جائے اور سب لوگوں سے اسی دوستی کا اقرار لیا جائے۔جبکہ قرآن مجید نے پہلے ہی وضاحت کے ساتھ یہ اعلان فرما دیاہے :'' ِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ ِخْوَة''(حجرات١٠)ایک دوسری جگہ ارشاد ہوتا ہے:''وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُہُمْ َوْلِیَائُ بَعْضٍ''(توبہ٧١)

خلاصہ یہ کہ اسلامی اخوت اور مسلمانوں کی ایک دوسرے سے دوستی اسلام کے سب سے واضح مسائل میں سے ہے جو پیغمبر اکرمۖ کے زمانہ سے چلی آرہی ہے،اور خود آنحضرتۖ نے ا س بات کو بارہا فرمایا ہے اور اس مسئلہ میں تاکید فرمائی ہے ،اور یہ کوئی ایسا مسئلہ نہ تھا جس سے آیت کا لب ولہجہ اس قدر شدید ہوجاتا،اور پیغمبر اکرمۖ اس راز کے فاش ہونے سے کوئی خطرہ محسوس کرتے(غور کیجئے)

تیسری دلیل یہ ہے کہ خدا وند عالم قرآن مجید میں تاکید کے ساتھ فرماتا ہے :''اگر اس امر کو لوگوں تک نہ پہنچایا تو گویا کار رسالت انجام نہیں دیا۔''یہ تاکید ولہجہ ثابت کرتا ہے کہ آیت کسی فرعی اور جزئی حکم کے بارے میں نہیں ہے بلکہ مسئلہ بہت اہم ہے یعنی رسول خداۖ کی جانشینی اور خلافت کا مسئلہ درپیش ہے لہٰذا مولا کے معنی یہاں صاحب اختیار اور امیرامام ہے تاکہ سارے مسلمان اس بات سے آگاہ ہوجائیں کہ بعد از پیغمبر اسلامۖ جانشین کون ہے۔جانشین کے تعین کا حکم اگر چہ کافی پہلے حضور اکرمۖ پر نازل ہوچکا تھا مگر اس کے ابلاغ کا دقیق وقت معین نہ ہوا تھا، چونکہ بعض نئے مسلمانوں کے کچھ کافر رشتہ دار حضرت علی  کے ہاتھوں جنگوں میں فی النار ہوگئے تھے اسی بناء پر حضور اکرمۖ کو علی  کی امامت کے اعلان پر کسی شدید رد عمل کا خدشہ تھااسی لئے خداوند عالم نے فرمایا:''وَاﷲُ یَعْصِمُکَ مِنْ النَّاسِ'' خدا تمہیں دشمنوں کے شر سے محفوظ رکھے گا۔ 

چوتھی دلیل رسول خداۖ نے حدیث''من کنت مولاہ''سے پہلے فرمایا:''الست اولیٰ بالمومنین من انفسھم'' کیا میں تم پر تمہارے نفسوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا ہوں سب نے حضور اکرمۖ کی تصدیق کی اس کے بعد حضورۖ نے فرمایا:''من کنت مولاہ فعلی مولاہ''  پہلے جملہ سے یہ قرینہ ملتا ہے کہ یہاں پر مولا کے معنی صاحب اختیار ہیں۔

پانچویں دلیل رسول خدا ۖنے جب حضرت علی  کی ولایت کا اعلان فرمایا تو اس کے بعد مسلمانوں نے کہا:''سلموا علیہ بامرہ المومنین''۔(بحار الانوار،ج٣٧،ص١٤١۔تفسیر قمی،ج١،ص٢٧٧)

اگر حضورۖ مولا سے مراد دوست لیتے تو فرماتے کہ علی  کو بعنوان اظہار دوستی سلام کرو،اسی طرح حضرت ابو بکر اور عمر کا یہ قول''اصبحت مولای ومولا کل مومن ومومنہ''  حضرت علی کی ولایت وامامت پر دلالت کرتا ہے۔

چھٹی دلیل امامت علی  کے ابلاغ کے بعد رسول خداۖ نے دست دعا بلند کرکے فرمایا:اللھم وال من والاہ وعاد من عاداہ۔

ساتویں دلیل مولا کے جتنے بھی معنی بیان ہوئے ہیں ان میں اولیٰ بالتصرف اور صاحب اختیار حقیقی معنی میں ہیںباقی سب مجازی ہیںجوکہ قرینہ کے محتاج ہیں۔یہ بات واضح ہے کہ حقیقی معنی ہمیشہ مجازی معنی پر مقدم ہوتا ہے۔لہٰذا حدیث غدیر میں لفظ'' مولا'' صاحب اختیار اور اولیٰ بالتصرف کے لئے آیا ہے۔

آٹھویں دلیل حسان ابن ثابت نے غدیر خم میں پیغمبر ۖخداکے سامنے جو قصیدہ پڑھا اس میں حضرت علی  کو بعنوان امام ورہبر تعارف کرایا گیا ہے۔تو اگر یہ معنی مراد نہ ہوتے تو رسول ۖخدا اسے منع فرمادیتے۔علاوہ از این عرب کے شعراء نے''من کنت مولاہ'' میں جو مولا آیا ہے اسے امامت وولایت اور حکومت کے طور پر اپنے اشعار میں پیش کیا ہے نہ کہ دوست و مددگار کے معنی میں۔

حضرت علی  کے بارے میں حضرت محمدۖ کی دیگر احادیث بھی اس بات کی تائید کرتی ہیں کہ مولا بمعنی صاحب اختیار اور رہبر کے ہیں۔ 

                ''علی منی وانا منہ''علی  مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔''علی مع الحق والحق معہ''علی  حق کے ساتھ ہیں اور حق علی  کے ساتھ ہے۔''علی مع القرآن والقرآن معہ''علی  قرآن کے ساتھ ہے اور قرآن علی  کے ساتھ ہے۔''انی تارک فیکم الثقلین کتاب اللہ وعترتی''میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں چھوڑے جارہا ہوںکتاب خدا اور عترت،اہلبیت ۔

نویں دلیل لوگ اس حدیث غدیر سے امامت ورہبری ہی سمجھے نہ کہ دوستی اور نصرت۔لہٰذا جب غدیر خم کا واقعہ دوسرے شہروں میں پہنچا تو نعمان بن حارث فہری یہ واقعہ سن کر یہی سمجھا کہ رسول ۖ خدا نے علی  کو اپنا جانشین منسوب کردیا ہے لہٰذا وہ فوراً مدینہ آیا اور اس نے نبی اکرمۖ سے کہا:''آپ نے ہمیںوحدانیت خدا کا حکم دیا ہم نے آپ کی تصدیق کی ،آپ نے اپنی رسالت کا حکم دیا ہم نے اس کی تصدیق کی،آپ نے نماز ،روزہ،حج ،جہاد اور زکوٰة کا حکم دیا ہم نے سب قبول کرلیا۔آپ اس کے باوجود راضی نہ ہوئے اور اس(حضرت علی  کی طرف اشارہ کیا)کو اپنا جانشین منسوب کردیا۔کیا یہ حکم آپ نے خدا کی جانب سے دیا ہے یا اپنی طرف سے دیا ہے۔رسولۖ نے فرمایا:اس خدا کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے یہ حکم خدا کی طرف سے ہے۔نعمان نے کہا:''اللھم ان کان ھذا ھو الحق من عندک فامطر علینا حجارة من السمائ''خداوند عالم اگر یہ بات سچ ہے تو آسمان سے مجھ پر پتھر گرادے۔وہ یہ بات کہہ کر ابھی تھوڑی ہی دور گیا تھا کہ ناگہاں آسمان سے اس پر ایک پتھر گرا اور وہ ہلاک ہوگیا۔اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی''سأل سائل بعذاب واقع للکافرین لیس لہ دافع''(معارج١)''ایک سوال کرنے والے نے خدا سے اپنے عذاب کا سوال کیاجو کافروں کے لئے واقع ہوتا رہتا ہے اور اس کو دفع کرنے والا کوئی نہیں ہوسکتا ۔

لہٰذاان تمام اعترافات کے بعد ولایت علی  کا انکار در اصل اسلام اور قرآن کا انکار ہے اور عالم اسلام مساجد میں اس کا اعلان کرے یا نہ کرے منزل ایمان میں اس کا اقرار کرنا اسلام وایمان کا فرض ہے۔ جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

پھر آپۖ نے فرمایا:''ایھا الناس اجیبو داعی الی اللّٰہ انا رسول''

''اے لوگوں خدا وند عالم کی طرف دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرو میں اللہ کا پیغام لے کر آیا ہوں۔''کہہ کر آپۖ نے حمد وثنائے پروردگار کی اور ایک فصیح وبلیغ خطبہ ارشاد فرمایا اور پھر مولائے متقیان کو بلند کرنے کے بعد فرمایا:''ان اللّٰہ مولای وانا مولیٰ المومنین و انا اولیٰ بھم من انفسھم فمن کنت مولاہ فھذا علی مولاہ''۔

''بیشک خدا میرا مولا ہے اور میں مومنین کا مولا ہوںاور میں ان کے نفسوں پر ان سے زیادہ اولیٰ ہوں۔پس میں جس کا مولا ہوں اس کے یہ علی  مولا ہیں۔''

واضح رہے کہ تاریخ نگار کہتے ہیں کہ پیغمبر اکرمۖ نے اس جملہ کو تین بار دہرایا ہے اور پھر حضور نے اپنا خاص عمامہ حضرت سرکار ولایت مآب علی ابن ابی طالب علیہم السلام کے سر پر باندھا اور ارشاد فرمایا:''یا علی العمامة تیجان العرب''''اے علی  عمامہ عرب کا تاج ہے۔''اسی وجہ سے نور الابصار کے مصنف علامہ شیخ محمد شبلنجی تحریر کرتے ہیں کہ حضور اکرمۖ کا ایک لقب تاج ولایت بھی تھا اور اس کی توضیح کرتے ہوئے مصنف مذکور لکھتے ہیں کہ تاج سے مراد عمامہ ہے کیونکہ اس کی سند حضرت رسول خداۖ کی حدیث سے ملتی ہے کہ حضور ۖ نے جو عمامہ حضرت علی کے سر پر لگایا تھا اس کا نام ''سحاب'' تھا۔(نور الابصار،ص٣٠ مطبوعہ بیروت١٩٧٨ئ)

تاج گذاری کے بعد آنحضرتۖ نے فرمایا:''اے علی  ذرا پیچھے تو مڑو''علی  نے رسول اکرمۖ کے حکم کی تعمیل کی پھر ارشاد ہوا:''اب میری طرف رخ کرلو''امامت کے چاند نے اپنا چہرہ آفتاب رسالت کی طرف موڑ لیا۔رسول اکرمۖ  نے محبت بھرے انداز میں علی  کو سر سے پاؤں تک دیکھا اور پھر حضورۖنے خلوص سے سجے ہوئے لہجے میں فرمایا:''ھکذا تکون تیجان الملائکة''ملائکہ کے تاج بھی ایسے ہی ہوتے ہیں۔(کنز العمال،علی متقی ہندی، ج١٥، ص٤٨٣، ح٤١٩١٣، طبع بیروت)

لوگوں کے متفرق ہونے سے پہلے جبرئیل امین نے خدا کے پیغام کو حضورۖ کی خدمت میں پیش کردیا:

''الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی''

 ''آج میں نے تمہارے دین کو کامل کردیا اور اپنی نعمتوں کو تم پر تمام کردیا۔''(مائدہ٣)

اس کے بعد لوگوں نے امیر المومنین حضرت علی  کو مبارکباد پیش کی۔ ابو بکر وعمر،ان پہلے صحابہ میں سے تھے،جنہوں نے حضرت علی  کو ان الفاظ میں مبارکباد پیش کی:''بخ ٍ بخ ٍ لک یابن ابی طالب اصبحت وامسیت مولای ومولا کل مومن ومومنةٍ''''مبارک ہو مبارک ہو اے فرزند ابو طالب آپ نے ایسی حالت میں صبح وشام کی کہ میرے اور تمام مومنین ومومنات کے مولا ہوگئے۔''

(الغدیر،ج١،ص١٠۔تفسیرمجمع البیان،ج٣،ص٢٢٣۔تفسیرالمنار،ج٦،ص٤٦٣۔تفسیردر المنثور،ج٢،ص٢٩٨ ۔تفسیرفخررازی،ج١٢،ص٤٢۔مستدرک حاکم،ج٣،ص١١٨۔الفصول المھمہ،ص٤٠ـ٤٣۔سیرۂ حلبی،ج٣،ص٣٣٦ ۔مناقب ابن مغازلی،ص١٦ـ١٧۔بدایةونہایةابن کثیر،ج٥،ص١٨٤۔ارشادمفید،ج١،ص١٧٥۔بحارالانوار، ج٣٧، ص١٨٤۔الفصول المأہ،ج٢،فصل٢٧۔)

آخر میں حافظ عبد اللہ مر زبانی(متوفی٣٧٨)مرقات الشعر میں صحابی رسول ابو سعید خدری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ جب سرکار دوعالم ولی عہدی کا اعلان فرما چکے تو حسان ابن ثابت نے عرض کی کہ''اے خدا کے رسول ۖمیں علی  کی مدح میں چند شعر پیش کرنا چاہتا ہوں ''نبی کریمۖ نے فرمایا:''ہاں! پڑھو اجازت ہے''حسان نے شعر سنانا شروع کردیا مطلع تھا:

ینادیھم یوم الغدیر نبیھم

بخم واسمع بالرسول منادیا

شاعر دربار رسالت کی یہ برفی البدیہ نظم٣٨ مستند اور معتبر علمی ذرائع سے ہم تک پہنچی ہے اور آخر میں حسان ابن ثابت کہتے ہیں:

فقال لہ قم یا علی فاننی

 رضیتک من بعدی اماما وھادیا

فمن کنت مولاہ فھذا ولیہ

فکونوالہ انصار صدق موالیا 

ترجمہ:پھر رسول ۖ مقبول نے فرمایا:اے علی ! اٹھو میں نے اپنے بعد کے زمانہ کے لئے تمہیں امت کا امام اور ملت کا راہنما بنایا ہے۔لہٰذا جس کا میں حاکم ہوں یہ علی  بھی اس کا فرمان روا ہے۔لوگو!تم سب علی  کے سچے حامی اور تابع دار رہنا۔(کفایة الطالب محمد بن یوسف کنجی الشافعی،١٧) اور پھر آخر میں رسول خداۖ نے حسان کے حق میں دعا فرمائی کہ جب تک تم اپنی زبان سے ہماری مدح کرتے رہوگے روح القدس تمہاری مدد کرتے رہیں گے۔(ارشاد مفید،ج١،ص١٧٧۔فرائد السبطین،ج١، ص٧٣،ح٣٩٩۔امالی الصدوق مجلس٨٤،ج٣)۔

غدیر کے دن متعدد واقعات کا رونما ہونا

سال کے دنوں میں سے جو بھی دن غدیر سے مقارن ہوا اس دن عالم خلقت اور عالم تکوین وکائنات میں متعدد واقعات رونما ہوئے،جس طرح انبیاء  نے بھی اس دن اپنے اہم پروگرام انجام دیئے ہیں یہ اس اہمیت کے مد نظر ہے جو حضرت امیر المومنین  نے اس دن کو بخشی ہے اور اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ تاریخ عالم میں اس سے اہم کوئی واقعہ رونما نہیں ہواہے جس وجہ سے یہ کوشش کی گئی ہے کہ تمام واقعات اس سے مقارن ہوں اور اس مبارک دن میں برکت طلب کی جائے۔

انبیاء علیہم السلام کی تاریخ کے حساس ایام

(١)غدیر وہ دن ہے جس دن حضرت آدم  کی توبہ قبول ہوئی ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢١٢)

(٢)غدیر حضرت آدم کے فرزند اور ان کے وصی حضرت شیث کا دن ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢٠٩)

(٣)غدیر حضرت ابراھیم  کے لئے آتش نمرودکے گلزار بننے کا دن ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢١٢۔٢٢٢)

(٤)غدیر وہ دن ہے جس دن حضرت موسیٰ نے حضرت ہارون کو اپنا جانشین معین فرمایا۔ (عوالم،ج١٥٣،ص٢١٣)

(٥)غدیر حضرت ادریس  کا دن ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢٠٩)

(٦)غدیر حضرت موسیٰ کے وصی حضرت یوشع بن نون کا دن ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢١٢)

(٧)غدیر حضرت عیسیٰ کے وصی شمعون کا دن ہے۔(عوالم،ج١٥٣،ص٢٠٩۔٢١٣) 

مندرجہ بالا بعض موارد میں کچھ ایام مبھم طور پر ذکر ہوئے ہیں اور اس دن کے واقعات بیان نہیں کئے گئے ہیں یہ حدیث کے پیش نظر ہے اور اس سے مراد احتمالاً ان کا مبعوث با رسالت ہونا ہے یا ان کے وصی و جانشین منسوب ہونے کا دن ہے۔اہلبیت کی ولایت کا مقام مخلوقات کے سامنے پیش کرنا جس طرح غدیر کے دن''ولایت''تمام انسانوں کے لئے پیش کی گئی اسی طرح عالم خلقت میں تمام مخلوقات پر بھی پیش کی گئی ہے۔حضرت امام رضا  ایک حدیث میں غدیر کے روز ان امور کے واقع ہونے کی طرف اشارہ فرماتے ہیں:ولایت کا اہل آسمان کے لئے پیش ہونا،ساتویں آسمان والوں کا اسے قبول کرنے میں سبقت کرنا اور اس کے ذریعہ عرش الٰہی کا مزین ہونا۔ ساتویں والوں کے بعد چوتھے آسمان والوں کا ولایت قبول کرنا اور اس کا بیت مامور سے سجایا جانا۔چوتھے آسمان کے بعد پہلے آسمان والوں کا ولایت قبول کرنا اور اس کا ستاروں سے سجایا جانا۔زمین کے بقعوں پر ولایت کا پیش کیا جانا اس کو قبول کرنے کے لئے مکہ کا سبقت کرنا اور اس کو کعبہ سے زینت دینا۔ مکہ کے بعد مدینہ کا ولایت قبول کرنا اور اس(مدینہ) کو پیغمبرۖ اکرم سے مزین کرنا۔ مدینہ کے بعد کوفہ کا ولایت قبول کرنا اور اس کو امیر المومنین  کے وجود مبارک سے مزین کرنا۔پہاڑوں پر ولایت پیش کرنا، سب سے پہلے تین پہاڑ:عقیق ، فیروزہ اور یاقوت کا ولایت قبول کرنا،اسی لئے یہ تمام جواہرات سے افضل ہیں،عقیق، فیروزہ اور یاقوت کے بعد سونے اور چاندی کی(معادن)کان کا ولایت قبول کرنا،اور جن پہاڑوں نے ولایت قبول نہیں کی ان پر کوئی چیز نہیں اگتی ہے یعنی ان کی کوئی قیمت نہیں ہے۔

پانی پر ولایت پیش کرنا، جس پانی نے ولایت قبول کی وہ میٹھا اور گوارا ہے اور جس نے قبول نہیں کی وہ تلخ(کڑوا) اور کھارا(نمکین)ہے۔

 نباتات پر ولایت پیش کرنا،جس نے قبول کی وہ میٹھا اور خوش مزہ ہے اور جس نے قبول نہیں کی وہ  تلخ ہے۔

پرندوں پر ولایت پیش کرنا،جس نے قبول کیا اس کی آواز بہت اچھی اور وہ فصیح بولتا ہے اور جس نے قبول نہیں کی وہ الگن(اس کی زبان میں لکنت ہے،ہکلا ہے)ہے۔ 

اور اس کے ساتھ ساتھ ایک عجیب اتفاق یہ ہے کہ خداوند عالم کے الطاف میں سے ایک لطف عظیم ہے کہ عثمان ١٧ذی الحجہ کو قتل ہوا اور لوگوں نے خلافت غصب ہونے کے ٢٥ سال بعد حضرت علی  کے ہاتھوں پر بیعت کی اور دوسری مرتبہ آپ کی ظاہری خلافت روز غدیر سے مقارن ہوتی ہے۔(اثبات الہدایت،ج٢، ص ١٩٨،بحار الانوار،ج١٣،ص٤٩٣)

آسمانوں میں جشن غدیر

آسمانوں میں جشن غدیر متعارف ہے اور اس دن جشن منایا جاتا ہے ہم اس سلسلہ میں چار احادیث نقل کرتے ہیں۔

غدیر،عہدو معہود کا دن

                حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا:عید غدیر کو آسمانوں میں عہد ومعہود کا دن کہا جاتا ہے۔غدیر آسمان والوں پر ولایت پیش کرنے کا دن ہے۔حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:خداوندعالم نے آسمان والوں پر غدیر کے دن ولایت پیش کی تو ساتویں آسمان والوں نے اس کے قبول کرنے میں دوسرے سے سبقت کی اسی وجہ سے خداوند عالم نے ساتویں آسمان کو اپنے عرش سے مزین فرمایا۔اس کے بعد چوتھے آسمان والوں نے غدیر کو قبول کرنے میں دوسروں سے سبقت لی تو خدا وند عالم نے اس کو بیت مامور سے مزین فرمایا۔اس کے بعد پہلے آسمان والوں نے اس کو قبول کرنے میں دوسروں سے سبقت لی تو خدا وند عالم نے اس کو ستاروں سے مزین فرمایا۔

جشن غدیر میں ملائکہ

                حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:غدیر کا دن وہ دن ہے کہ جس دن خدا وند عالم جبرائیل امین کو بیت مامور کے سامنے اپنی کرامت کی تختی نصب کرنے کا حکم صادر فرماتا ہے۔اس کے بعد جبرائیل اس کے پاس جاتے ہیں اور تمام آسمانوں کے ملائکہ وہاں جمع ہوکر پیغمبرۖ اکرم کی مدح وثنا کرتے ہیں اور امیر المومنین اور ائمہ علیہم السلام اور ان کے شیعوں اور دوستداروں کے لئے استغفار کرتے ہیں۔ 

جشن غدیر شہزادیٔ کائنات کا نچھاور

                حضرت امام رضا(ع)اپنے پدر بزرگ امام موسیٰ ابن جعفر علیہم السلام سے وہ اپنے جد حضرت امام جعفر صادق سے نقل فرماتے ہیں کہ روز غدیر زمین والوں سے زیادہ آسمان والوں میں مشہور ہے۔

خداوند عالم نے جنت میں ایک قصر(محل)خلق فرمایا ہے جو سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا ہے،جس میں ایک لاکھ کمرے سرخ رنگ کے اور ایک لاکھ خیمہ سبز رنگ کے ہیں اور اس کی خاک مشک وعنبر سے ہے اس محل میں چار نہریں جاری ہیں:ایک نہر شراب کی ہے دوسری پانی کی ہے،تیسری دودھ کی ہے اور چوتھی شہد کی ہے ان نہروں کے کناروں پر مختلف قسم کے پھلوں کے درخت ہیں، ان درختوں پر وہ پرندے ہیں جن کے بدن لولو کے ہیںاور ان کے پر یاقوت کے ہیں اور مختلف آوازوں میں گاتے ہیں۔

جب غدیر کا دن آتا ہے تو آسمان والے اس قصر میں آتے ہیں تسبیح وتہلیل وتقدیس کرتے ہیںوہ پرندے بھی اڑتے ہیں اپنے کو پانی میں ڈبوتے ہیں اس کے بعد مشک وعنبر سے لوٹتے ہیں،جب ملائکہ جمع ہوتے ہیں تو وہ پرندے دوبارہ ملائکہ پر مشک وعنبر چھڑکتے ہیں ،ایک دوسرے کو ہدیہ دیتے ہیں ،غدیر کے دن فاطمہ زہراۖ کی نچھاور کے دن کا اختتام ہوتا ہے تو ندا آتی ہے اپنے اپنے درجات ومراتب پر پلٹ جاؤ کہ تم محمد وعلی علیہم السلام کے احترام کی وجہ سے اگلے سال آج کے دن تک ہر طرح کی لغزش اور خطرہ سے امان میں رہوگے۔

                آخر میں خدا وند کریم سے یہ دعا کرتا ہوں کہ خدایا! ہمیں واقعہ غدیر کی صحیح معرفت عنایت فرما اور توفیق فرما کہ غدیر کے حقیقی پیغام کو دنیا میں نشر کرسکیں۔

منابع ومآخذ

١۔قرآن کریم،٢۔تفسیر المنار،٣۔تفسیر در المنثور،٤۔تفسیر فخر رازی،٥۔تفسیر قمی،٦۔بدایہ ونھایہ،٧۔معجم البلدان، ٨۔الفصول المھمہ،٩۔تذکرة الخواص،١٠۔نور الابصار،١١۔کنز العمال،١٢۔مستدرک حاکم،١٣۔سیرۂ حلبی،١٤۔مناقب ابن مغازلی،١٥۔ارشاد مفید،١٦۔بحار الانوار،١٧۔الفصول مأہ،١٨۔فرائد السبطین،١٩۔امالی الصدوق،٢٠۔عوالم۔

                                                                                 


موضوعات مرتبط: انتشارات انجمن، پيام رأفت نمبر 6 (نشريه بزم رأفت)، پيام رأفت نمبر 7 (نشريه بزم رأفت)
[ سه شنبه سی ام مهر 1392 ] [ 12:57 ] [ انجمن ] [ ]

زیر سر پرستی حضرت بقیة اللہ الاعظم صاحب الزمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف

 

مجلس ادارت

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا الفت حسین جویاصاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا تحریر علی  نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا حسن عسکری نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا سبط محمد رضوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا فیروز رضا نقوی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانا محمد حسین بہشتی صاحب

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانانیر عباس رضوی صاحب

مدیر

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولاناسبط حیدر زیدی صاحب

کمپوزنگ و ڈزائننگ:  ادارہ

پیام رأفت

سال ٤ ۔ شمارہ ٦ـ٧

غدیر ١٤٣١ھ سے غدیر١٤٣٢ھ تک

بزم رأفت

انجمن شعر و ادب اردو زبان کاعظیم شاہکار

ممبران

حجة الاسلام والمسلمین جناب مولانامجاہد حسین نقوی صاحب

حجة الاسلام  جناب مولانااکبر حسین جعفری صاحب

حجة الاسلام  جناب مولاناجابر علی انصاری  صاحب

حجة الاسلام  جناب مولاناعارف حسین صاحب

جناب مولاناسیدسجاد حسین اطہرکاظمی صاحب

جناب مولاناسیدندیم رضانقوی صاحب

جناب مولاناسیدمنورعباس زیدی صاحب

جناب مولاناسیدنشاط مہدی نقوی

جناب مولاناوفادارحسین صاحب

جناب مولاناتاج محمدخان صاحب

جناب مولاناحافظ غضنفر عباس صاحب

Website : www.brurdu.orq.ir     weblog: www.urdu.blogfa.com

sibtezaidi@yahoo.co.in  Tel:0098-511-2581296 - 09359750753

فہرست مطالب

ردیف               اثر                                   صاحب اثر                                                     صفحہ

١          اداریہ           (اعمال غدیر )                مدیر                                                           ٣

٢         غدیر کی اہمیت و عظمت            جناب محمد حسن رضوی الہ آبادی صاحب                ١٣

٣         غدیر!  دنیا  کے شعراء  کی نظر میں   جناب سید سکندر عباس زیدی صاحب               ٢٧

٤        غدیر !حضرت امام رضا(ع)کے کلام میں  جناب سیدمجاہدحسین نقوی صاحب                ٦٩

٥        حصہ نظم                   بزم رأفت کی محافل سے اقتباس                                         ٨٨

٦       طالع ہے  آفتاب رسالت  غدیر میں               جناب تحریر علی نقوی صاحب                   ٨٩

٧      مشکلیں خود ڈرگئی ہیں دیکھ کر اکثر مجھے    جناب جرئت عباس صاحب                      ٩١

٨      جلا رہاہوں  سر بزم  منقبت کے  چراغ             جناب ذیشان مہدی صاحب                      ٩٢

٩      چمکا  ہے   ماہتاب  امامت  غدیر  میں            جناب سبط حیدر زیدی صاحب                  ٩٣

١٠      بضعت  ختم  رسل  ام  ابیہا  زہرا           جناب سجادحسین اطہرکاظمی صاحب             ٩٥

١١     حجرہ ذات کے کونے میں سمٹ کر روئے     جناب عاشق حسین عاشق صاحب            101

١٢    جان ہے کرب وبلا کی خم کی جاں معراج میں       جناب فیروز رضا نقوی صاحب              ١٠٣

١٣     مجھے یقین ہے ایسا حسین پھول ہوں میں         جناب قیصر علی شاہد صاحب            ١٠٣

١٤    مری بگڑی ہوئی قسمت بنی ہے آپ کے در پر     جناب محمد حسین بہشتی صاحب       ١٠٤

١٥    بیدار جو ملت ہو وہ رسوا نہیں ہوتی                 جناب محمد علی عابدی صاحب             ١٠٧

١٦    ظلم  کو آج بھی شبیر سے ڈرلگتا ہے               جناب منورعباس زیدی صاحب                ١٠٨ 

١٧   جارہا ہے  نور کا  ایک کارواں  معراج میں             جناب نشاط مہدی نقوی صاحب              ١٠٩

١٨    تنویر غدیر سیمنار کی مختصر رپورٹ                                ادارہ                                   ١١١

١٩    بزم رأفت تصویر کے آئینہ میں                                         ادارہ                                    ١١٦


 

اداریہ

(اعمال غدیر)

(غدیر میری امت کی سب سے بڑی عبد ہے ()(رسول اکرم (ص))     

یہ ایک دیرینہ آرزو ہے کہ کاش روز غدیر بھی عید فطر و قربان کی طرح بلکہ اس سے بڑھ کرسارے عالم میں، لوگ اپنے اپنے شہرو قصبات و دیہاتوں میں جمع ہوں اور باجماعت نماز بجالاکر ایک دوسرے کو مبارک باد پیش کریں اور ایک دوسرے کے گھر مبارکباد دینے کی غرض سے جائیں اور پھر دوبارہ سے وہی غدیر کا منظر مجسم نظر آئے شاید بہت سے مقامات پر یہ اعمال آج بھی انجام پاتے ہوں لیکن پوری دنیا میں یہ سلسلہ جاری ہو اسی خواہش کے مدنظر روز غدیر کے اعمال کو یک جا جمع کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ مؤمنین ان اعمال کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اس روز کو امت اسلامی کی سب سے بڑی عید کے طور پر منائیں  ۔

غدیر کے دن عید منانا اسی حج الوداع والے سال اور اسی غدیر کے بیابان میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ کے تمام ہونے کے بعدسے ہی شروع ہوگیاتھاغدیر خم میں تین روز توقف کے دوران رسمیں انجام دی گئیں اور آنحضرت(ص)نے شخصی طور پرلوگوں سے خود کو مبارکباد دینے کے لئے کہا :مجھ کو مبارکباد دو ،مجھ کو مبارکباد دجبکہ اس طرح کے الفاظ آپ نے کسی بھی فتح کے موقع پر اپنی زبان اقدس پر جاری نہیں فرمائے تھے۔

سب سے پہلے لوگوں نے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور امیر المو منین علیہ السلام کو مبارکباد دی اور اسی مناسبت سے اس دن اشعار بھی پڑھے گئے ۔

یہ سنتِ حسنہ تاریخ کے نشیب و فراز میں اسی طرح بر قرارر ہی اور عام و خاص تمام اہل اسلام میں ایک مستمر اور موکد سیرت کے عنوان سے جاری وساری رہی ہے اور آج تک ھرگز ترک نہیں ہوئی ہے ۔

اس عید کوشیعہ معا شروں میں معصومین علیھم السلام کی روایات کی اتباع کر تے ہوئے عید فطر اور عید قربان سے زیادہ اہم سمجھا جاتا ہے اور بہت زیادہ جشن منا یا جاتا ہے ۔

جشن غدیر کی شان و شوکت کی رعایت کرنا

ہر قوم عید مناتے وقت اپنی ثقافت و عقیدت کا اظہار کرتی ہے لہذا مذہب اہل بیت علیہم السلام میں بھی غدیر کے دن عید منا نے میں مختلف پہلووںکو مد نظر رکھا گیا ہے جن کی رعایت کر نے سے دنیا کے سامنے اہل تشیع کی فکری کیفیت کا تعارف ہو تا ہے ہم ان موارد کو روایات کی روشنی میں ذکر کرینگے۔

عید غدیر کی مناسبت سے انجام دئے جا نے والے رسم و رسومات جو ہم بیان کررہے ہیں صرف ان ہی میں منحصرنہیںہیںلیکن جشن وسرور کااظہار کرنے کے لئے تین بنیادی چیزوں کومد نظر رکھناضروری ہے :

١۔جشن و سرور کے پروگرام ،عید سے مناسبت رکھتے ہوں،صاحب عید یعنی حضرت علی علیہ السلام کے مقام و منزلت کے مناسب ہوں ،تمام پروگراموں میں مذہبی رنگ مد نظر ہو ۔

٢۔جو کام شرع مقدس کے منافی ہیں(چا ہے وہ حرام ہوں اورچاہے مکروہ)وہ اس جشن میں مخلوط نہیں ہو نے چا ہئیں ۔جو چیزیں ائمہ علیہم السلام کے دلوں کو رنجیدہ کر تی ہیں نہیں ہونی چا ہئیں۔

٣۔جو مطالب روایات سے اخذ کئے گئے ہیں حتی الامکان ان کو غدیر کی رسم و رسومات میں جاری کرنے کی کو شش کرنی چا ہئے ہم انہیں ذیل میں ذکر کر رہے ہیں:

عید اور جشن غدیر کے سلسلہ میں ائمہ علیہم السلام کے احکام

اہل بیت علیہم السلام سے مروی احادیث میں تمام عیدوں کیلئے عام رسم و رسومات اور پروگرام وارد ہوئے ہیں جو دعا وں کی کتابوں میں مذ کورہیں ۔ان کے قطع نظر ائمہ علیہم السلام سے عیدغدیر اور جشن غدیر کیلئے مخصوص قوانین وارد ہو ئے ہیں جن کوہم دو حصوں میں بیان کر تے ہیں : 

١۔اجتماعی امور ۔                ٢۔عبادی امور ۔

عید غدیر میں اجتماعی امور

قلبی اور زبانی خو شی کا اظہار

حضرت امیر المؤ منین علیہ السلام فر ما تے ہیں :اس دن ایک دوسرے سے خندہ پیشانی سے پیش آئیں اور ایک دوسرے سے ملاقات کر تے وقت خو شی کا اظہار کر یں ۔(عوالم،ج٣،ص٢١٥)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فر ما تے ہیں :عید غدیر وہ دن ہے کہ جس دن خداوند عالم نے تم پر نعمت ولایت نازل کر کے احسان کیا لہذا اس کاشکر اور اس کی حمد وثنا کرو۔(بحارالانوار،ج٣٧،ص١٧٠)  حضرت امام رضا(ع)کا فرمان ہے : یہ دن مو منین کے مسکرانے کا دن ہے ،جو شخص بھی اس دن اپنے مو من بھا ئی کے سامنے مسکرا ئے گا خداوند عالم قیامت کے دن اس پر رحمت کی نظرکریگااس کی ہزار حاجتیں بر لا ئے گا اور جنت میں اس کیلئے سفید مو تیوں کا قصر(محل)بنائیگا۔(عوالم،ج٣،ص٢٢٣)

مبارکباد دینا

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فر ما تے ہیں :جب تم اس دن اپنے مومن بھائی سے ملاقات کرو تو یہ کہو : الحمد لِلہِ الذِی اکرمنابِھذ الیومِ وجعلنامِن المومِنِین وجعلنامِن الموفِِین بِعھدِہِ الذِی عھِدہ اِلیناومِیثا قِہِ الذِی واثقنابِہِ مِن وِلایِة ولاة امرِہِ والقوامِ بِقِسطِہِ ولم یجعلنا مِن الجاحِدِین والمکذِبِین بِیومِ الدِینِ ۔(عوالم،ج٣،ص٢١٥)

تمام تعریفیں اس خد اکیلئے ہیں جس نے اس دن کے ذریعہ ہمیں عزت دی ،ہم کو ان مومنین میں قرار دیا جنہوں نے عہد خدا کی وفاداری کی اور اس پیمان کی پابندی کی جو اس نے اپنے والیان امر اور عدالت قائم کرنے والوں کے سلسلہ میںہم سے لیا تھااورہم کو قیامت کا انکار کرنے والوں اور جھٹلانے والوں میں نہیں قرار دیا ہے۔

حضرت امام رضا علیہ السلام فرما تے ہیں :اس دن ایک دوسرے کو مبارکباد پیش کرو اورجب اپنے مو من بھائی سے ملاقات کرو تو اس طرح کہو :

الحمد لِلہِ الذِی جعلنامِن المتمسِکِین بِوِلایةِ امِیرِالمومِنِین علیہ السلام

تمام تعریفیں اس خدا کیلئے ہیں جس نے ہمیں امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت سے متمسک رہنے والوں میں سے قرار دیا ہے ۔(عوالم،ج٣،ص٢٢٣)

عمومی طورپر جشن منانا

جشن منانے کا مطلب یہ ہے کہ کچھ لوگوں کا خوشی ومسرت کے موقع ومناسبت کے لئے جمع ہونا۔دوسرے لفظوں میں جشن کا مطلب کچھ لوگوں کا اجتماعی طورپر عید منانا ہے ۔

حضرت امیر المو منین علیہ السلام کے زمانے میں عید غدیر جمعہ کے دن آئی آپ نے اس روز جشن منایا، اس دن اسی مناسبت سے غدیر اور عید منا نے کے سلسلہ میں مفصل مطالب ارشاد فر مائے ،نماز کے بعد آپ (ع)اپنے اصحاب کے ساتھ حضرت امام مجتبی علیہ السلام کے خانہ اقدس پر تشریف لے گئے جہاںجشن منایاجارہاتھا اور وہاں پر مفصل مہمان نوازی ہوئی۔(عوالم،ج٣،ص٢٠٩)

حضرت امام رضا علیہ السلام نے غدیر کے دن روزہ رکھا ،افطار کے لئے کچھ افراد کو دعوت دی، ان لوگوں کے سامنے غدیر کے سلسلہ میں مفصل خطبہ ارشافرمایا اور ان کے گھروں میں تحفے تحائف بھیجے۔ (عوالم،ج٣،ص٢٢١)حضرت امیر المو منین علیہ السلام نے عید غدیر کے سلسلہ میں فر مایا :اس دن ایک دوسرے کے پاس جمع ہونا تا کہ خداوند عالم تم سب کے امور کو درست فرمائے۔(عوالم،ج٣،ص٢٠٩)

اشعار پڑھنا بھی غدیر کے جشن منانے سے بہت منا سبت رکھتا ہے جو ایک قسم کی یاد گار ہے اور شعرکی خاص لطافت و حلاوت سے جشن میں چار چاند لگ جا تے ہیں ۔

غدیر کے سب سے پہلے جشن کے موقع پر حسان بن ثابت کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اجازت سے غدیر کی مناسبت سے اشعار کہنا اور پڑھنا اسی مطلب کی تا ئید کرتا ہے ۔(عوالم،ج٣،ص٤١)

نیا لباس پہننا

حضرت امام رضا علیہ السلام فر ماتے ہیں :یہ دن زینت و آرائش کرنے کا دن ہے ۔جو شخص عید غدیر کیلئے اپنے آپ کومزین کرتا ہے خدا وند عالم اس کے گناہ معاف کر دیتا ہے ملائکہ کو اس کیلئے حسنات لکھنے کی خاطر بھیجتا ہے تا کہ آنے والے سال تک اس کے درجات کو بلند رکھیں ۔(عوالم،ج٣،ص٢٢٤)

حضرت امام رضا علیہ السلا م نے ایک عید غدیر کے مو قع پر اپنے بعض خاص اصحاب کے گھروں میں نئے کپڑے یہاں تک کہ انگوٹھی اور جوتے وغیرہ بھی بھیجے، ان کی اور اپنے اطراف کے لوگوں کی ظاہری حالت کوتبدیل کیااوران کے روزانہ کے لباس کو عید کے لباس میں بدل دیا۔(عوالم،ج٣،ص٢٢١)

ھدیہ دینا

حضرت امیرالمو منین علیہ السلام فرماتے ہیں :اس دن خدا وند عالم کی نعمتوں کو ایک دوسرے کو ھدیہ کے طورپر دو جس طرح خدا وند عالم نے تم پر احسان کیا ہے۔(عوالم،ج٣،ص٢٠٩)

مو منین کا دیدار کرنا

حضرت امام رضا علیہ السلام فر ماتے ہیں :جو شخص اس دن مو منوں کی زیارت کرے اور ان کادیدار کرنے کیلئے جا ئے خدا وند عالم اس کی قبر پر ستر نور وارد کرتا ہے اس کی قبر کو وسیع کرتا ہے ،ہر دن سترہزار ملا ئکہ اس کی قبر کی زیارت کرتے ہیں اور اس کو جنت کی بشارت دیتے ہیں۔(عوالم،ج٣،ص٢٢٤)

اہل وعیال اور اپنے بھا ئیوں کے حالات میں بہتری پیدا کرنا

حضرت امیر المو منین علیہ السلام نے ایک عید غدیر کے دن فرمایا:جب تم جشن سے اپنے گھر واپس جاؤ تو اپنے اہل و عیال کے حالات میں بہتری پیدا کرو اور اپنے بھا ئیوں کے ساتھ نیکی کرو ۔۔۔ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کرو تاکہ خدا وند عالم تمھاری الفت و محبت برقرار فرمائے ۔(عوالم،ج٣،ص٢٠٩)

حضرت امیر المو منین علیہ السلام نے فرمایا ہے :اس دن احسان کرنے سے مال میں برکت ہوتی اور اضافہ ہوتا ہے ۔(عوالم،ج٣،ص٢٠٩)

حضرت امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں :جو شخص اس دن اپنے اہل و عیال اور خود پر وسعت دیتا ہے خداوند عالم اس کے مال کو زیادہ کردیتا ہے۔(عوالم،ج٣،ص٢٢٣)

عقد اخوت و برادری

عید غدیر کے لئے جو رسم رسومات بیان ہو ئی ہیں ان میں سے ایک عقد اخوت کا پروگرام ہے ،اس کا مطلب یہ ہے کہ دینی برادران اس اسلامی سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنی برادری کو مستحکم کرتے ہیں ،اور ایک دوسرے سے یہ عہد کرتے ہیں کہ قیامت میں بھی ایک دوسرے کویاد رکھیں گے ضمنی طور پر اسلامی بھائی چارے کے حقوق چونکہ بہت زیادہ ہیں لہذا ان کی رعایت کیلئے خاص توجہ کی ضرورت ہے لہذا ان کے ادا نہ کرسکنے کی حلیت طلب کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ ایک مرتبہ پھر اپنے آپ کوحقوق کی ادا ئیگی کی طرف متوجہ کرتے ہیں ۔

صیغہ اخوت پڑھنے کا طریقہ یہ ہے : اپنے داہنے ہاتھ کو اپنے مو من بھا ئی کے داہنے ہاتھ پر رکھ کر کہو :

واخیتک فِی اللہِ وصافیتک فِی اللہِ وصافحتک فِی اللہِ وعاھدت اللہ وملا ئِکتہ وانبِیائہ والا ئِمة المعصومِین علیھِم السلام علی انی اِن کنت مِن اھلِ الجنةِ والشفاعةِ واذِن لِی بِان ادخل الجنة لاادخلھااِلاوانت معِی۔

میں راہِ خدا میں تیرے ساتھ بھائی چارگی اور ایک روئی(اتحاد)سے پیش آؤنگا اور تیرے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیتا ہوں ،میں خدا، اس کے ملا ئکہ ،انبیا اور ائمہ معصومین علیہم السلام سے عہد کرتا ہوں کہ اگر میں اہل بہشت اور شفاعت کرنے والوں میں سے ہوا اور مجھ کو بہشت میں جانے کی اجازت دیدی گئی تو میں اس وقت تک بہشت میں داخل نہیں ہوؤنگا جب تک تم میرے ساتھ نہ ہوگے ۔

اس وقت اس کا دینی بھا ئی اس کے جواب میں کہتا ہے :قبِلت  میں نے قبول کیا۔

 اس کے بعد کہے: اسقطت عنک جمِیع حقوقِ الاخوةِ ماخلا الشفاعة والدعا والزِیارة

میں نے بھائی چارگی کے اپنے تمام حقوق تجھ سے اٹھا لئے(تجھ کو بخش دئے)سوائے شفاعت ،دعا اور زیارت کے۔(مستدرک الوسائل،ج١،باب٣،ص٤٥٦)

عید غدیر میں عبادی امور

صلوات ،لعنت اور برائت

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا فر مان ہے :اس دن محمد و آل محمد پر بہت زیادہ صلوات بھیجو اور ان پر ظلم کرنے والوں سے برائت کرو ۔(بحارالانوار،ج٣٧،ص١٧١)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے :اس دن بہت زیادہ کہو:

(اللھم العن الجاحِدِین والناکِثِین والمغیِرِین والمبدِلِین والمکذِبِین الذِین یکذِبون بِیومِ الدِینِ مِن الاولِین والآخِرِین)

اے خدا قیامت کے دن انکار کرنے والے عھد توڑنے والے ،تغیر وتبدل کرنے والے ،بدلنے(بدعت ایجاد کرنے) والے اور جھٹلانے والے چاہے وہ اولین میں سے ہوں یا آخرین میں سے سب پر لعنت کر۔ (عوالم،ج٣،ص٢١٧) حضرت امام علی رضا علیہ السلام فرماتے ہیں :یہ محمد وآل محمدعلیہم السلام پر بہت زیادہ صلوات بھیجنے کا دن ہے ۔(عوالم،ج٣،ص٢٢٣)

شکر اور حمد الہی

حضرت امیر المو منین(ع)کا فرما ن ہے :اس دن خدا وند عالم کی عطا کردہ اس نعمت(ولایت)پر اس کا شکر ادا کرو ۔(عوالم،ج٣،ص٢٠٩)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کا فرمان ہے :یہ دن خدا وند عالم کے شکر اور اس کی حمد وثنا کرنے کا دن ہے کہ اس نے تمھارے لئے امر ولایت کو نازل فر مایا ہے ۔(بحارالانوار،ج٣٧،ص١٧١) 

اس دن خدا وند عالم کا شکر ادا کر نے کے طریقہ کے سلسلہ میں مفصل طور پر دعائیں وارد ہو ئی ہیں ان میں سے ایک کا مضمون اس طرح ہے : شکرِ خدا کہ اس نے ہم کو اس دن کی فضیلت سے روشناس کیاہمیں اس کی حرمت سمجھائی،اور اس کی معرفت کے ذریعہ ہمیں شرافت بخشی ہے۔(عوالم،ج٣،ص٢١٥)

زیارت حضرت امیرالمو منین علیہ السلام

عید غدیر کے دن کی ایک مخصوص رسم یہ ہے کہ اس دن کے صاحب یعنی حضرت امیر المو منین(ع)کی اس بارگاہ مطہر کی زیارت کرنا ہے کہ جس کے پاسبان فرشتے ہیں ۔آپ(ع)کی زیارت میں یہ مطلب بھی مد نظر رکھا جا سکتا ہے کہ :چونکہ ہم صحرائے غدیر میں آپ کو مبارکباد پیش کر نے کے لئے حاضر نہ ہو سکے لہذا اب ہم اس دن(صدیوں بعد)میں آپ کی قبر مطہر کی زیارت کے لئے جا تے ہیں اورہمارا یہ عقیدہ ہے کہ امام معصوم ہمیشہ زندہ ہو تا ہے اور ہماری آواز سنتا ہے آپ کی مقدس بارگاہ میں تبریک و تہنئت پیش کرتے ہیں اور آپ(ع)سے تجدید بیعت کرتے ہیں ۔

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فر ما تے ہیں :اگر تم عید غدیر کے روز مشہد امیر المومنین علیہ السلام (نجف اشرف) میں ہو تو آپ(ع)کی قبر کے نزدیک جاکر نماز اور دعائیں پڑھو ،اور اگر وہاں سے دور دراز شہروں میں ہو تو آپ(ع)کی قبر اطہر کی طرف اشارہ کرکے یہ دعا پڑھو۔۔۔(عوالم،ج٣،ص٢١٥)

حضرت امام رضا علیہ السلام فر ماتے ہیں :تم کہیں پر بھی ہو عید غدیر کے دن خود کو حضرت امیر المو منین علیہ السلام کی قبر مطہر کے نزدیک پہنچاؤ اس لئے کہ خداوند عالم اس دن مو منوں کے ساٹھ سال کے گنا ہوں کو معاف فرماتا ہے اور ماہ رمضان ،شب قدر اور شب عید فطر کے دو برابر مومنین کو جہنم کی آگ سے آزاد کرتا ہے ۔(مفا تیح الجنان :باب زیارات امیر المو منین علیہ السلام ،زیارت غدیر)

حضرت امام علی نقی علیہ السلام نے غدیر کے دن سے مخصوص ایک مفصل زیارت پڑھنے کا حکم دیا ہے جو مضمون کے اعتبار سے مکمل طور پر حضرت امیر المومنین علیہ السلام کی ولایت سے مربوط عقائد، فضائل محنتوں اوردرد و الم کو بیان کر تی ہے ۔(بحارالانوار،ج٩٧،ص٣٦٠) 

نماز ،عبادت اور شب بیداری

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں :یہ دن عبادت اور نماز کا دن ہے (بحارالانوار،ج٣٧، ص١٧٠)حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام فر ماتے ہیں :ظہر سے آدھا گھنٹہ پہلے(خدا وند عالم کے شکر کے عنوان سے)دور کعت نماز پڑھو ۔ہر رکعت میں سورہ حمد دس مرتبہ ، سورہ توحید دس مر تبہ ، سورہ قدر دس مر تبہ اور آیة الکر سی دس مرتبہ پڑھو ۔اس نماز کے پڑھنے والے کو خدا وند عالم ایک لاکھ حج اور ایک لاکھ عمرے کا ثواب عطا کرتا ہے اور وہ خدا وند عالم سے جو بھی دنیا اور آخرت کی حاجت طلب کرتا ہے وہ بہت ہی آسانی کے ساتھ بر آ ئیگی۔(عوالم،ج٣،ص٢١٥)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے :مسجد غدیر میں نماز پڑھنا مستحب ہے۔چونکہ پیغمبر اکرم (ص)نے اس مقام پر حضرت امیر المو منین علیہ السلام کو اپنا جا نشین معین فرمایاتھا اور خدا وند عالم نے اس دن حق ظاہر فر مایا تھا۔(بحارالانوار،ج٣٧، ص١٧٣)

روزہ رکھنا

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا ہے :یہ وہ دن ہے کہ جب حضرت امیر المو منین(ع)نے خدا وند عالم کا شکر بجالانے کی خا طر روزہ رکھا۔(عوالم،ج٣،ص٢١٣)

حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے فر مایا :اس دن روزہ رکھناساٹھ مہینوں کے روزوں کے برابر ہے۔(عوالم،ج٣،ص٢١١)اور ایک حدیث میں فر مایا ہے :اس دن کا روزہ ساٹھ سال کا کفارہ ہے۔(عوالم، ج٣،ص٢١٣)اور ایک اور حدیث میں فرمایا ہے :ساٹھ سال کے روزوں سے افضل ہے۔(عوالم،ج٣، ص٢١٣)امام جعفر صادق علیہ السلام کا ہی فرمان ہے :اس دن کا روزہ سومقبول حج اور سو مقبول عمرے کے برابر ہے ۔(عوالم،ج٣،ص٢١١)اور یہ بھی آپ ہی کا فرمان ہے :غدیر کے دن کا روزہ دنیا کی عمر کی مقدار روزے رکھنے کے برابر ہے(یعنی اگر انسان دنیا کی عمر کے برابر زندہ رہے اور تمام دن روزہ رکھے تو غدیر کے دن کا روزہ رکھنے والے کو اتناہی ثواب دیا جا ئیگا ۔(عوالم،ج٣،ص٢١١) 

دعا (عہد و پیمان اور بیعت کی تجدید)

عید غدیر کے دن مختصر اور مفصل دعائیں وارد ہو ئی ہیں جن کا پڑھنا خداوند عالم ،پیغمبراور ائمہ علیہم السلام سے تجدیدعہد و پیمان کرنا شمار ہوتا ہے اور اس کو تجدید بیعت بھی کہا جاسکتا ہے ۔

ان دعاؤں کے مطالب میں شکر گزاری ،ایک شیعہ ہونے کے مد نظر ولایت وبرائت کے متعلق اپنے عقائد کا اظہار اور مستقبل کے لئے دعا شامل ہے لیکن ان سب مطالب کا ولایت،برائت اور عید غدیر کے دن کی مبارکبادمیں خلاصہ کیا جاسکتا ہے ۔بہر حال اداریہ کچھ زیادہ ہی طولانی ہوچکا ہے لیکن آرزوئیں ہوتی ہی طولانی ہیں چونکہ یہ ہماری ایک آرزو ہے لہذا طولانی بھی ہو تو غنیمت ہے بزم رأفت نے اسی آرزو کو مدنظر رکھتے ہوئے اس سال ایک عظیم سیمنار(تجلی ولایت بعثت سے غدیرتک)کے عنوان سے منعقد کیا کہ جس کی تفصیل گذارشات میں آئے گی کافی مومنین نے استقبال ، تعاون اورشرکت فرمائی اور اس مرتبہ ایک اور عظیم الشان سیمنار حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی ولادت باسعادت کی مناسبت پر ہے کہ جس  میں بھی امید ہے کہ بزم رأفتکے گذشتہ پروگراموں کی طرح تعاون فرماکر معصومین علیہم السلام سے اجر و ثواب اخذفرمائیں گے اور ہ بزم رأفتکے پروگراموں کو رونق  بخش کے شکریہ کا موقع فراہم فرمائیں گے ۔

والسلام

سید سبط حیدر زیدی

مدیر

بزم رافت

انجمن شعر وادب اردو زبان

مشہد مقدس

 

 

[ پنجشنبه سی ام خرداد 1392 ] [ 17:34 ] [ انجمن ] [ ]
جناب ڈاکٹر افتخار عارف "اکو آرگنائزیشن کے ثقافتی امور کے رئیس" بزم رافت انجمن شعر وادب اردو زبان مشہد مقدس میں


مرتبط لینک

http://www.farsnews.com/newstext.php?nn=13920228000687



موضوعات مرتبط: شعرائ اردو زبان، فعالیتهای انجمن، اخبار ادبی
[ شنبه بیست و هشتم اردیبهشت 1392 ] [ 18:59 ] [ انجمن ] [ ]

باسمہ تعالی

وجہ خلقت کائنات ، سبب معرفت پروردگار ، بضعۃ الرسول، کفو ولایت ، مادر امامت ، صدیقہ کبری حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیھا

اور ان کے فرزند ارجمند رہبر کبیر انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی کی ولادت باسعادت کی عظیم مناسبت پر بزم ر‏افت (انجمن شعر و ادب اردو زبان) کی جانب سے ایک علمی ادبی عظیم الشان خصوصی جشن پر مسرت بعنوان

میلاد کوثر

کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں کلام شاعر بزبان شاعر پیش کیا جائے گالہذا صرف شعراء حضرات سے پر خلوص شرکت کی استدعا ہے ۔

نوٹ : اس عظیم مناسبت پر بزم رافت کے دفتر کا افتتاح اور آخر محفل میں شعراء حضرات کو بقید قرعہ جوائز سے نوازا جائے گا۔

برائے کرم اول وقت تشریف لاکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔


زمان : بروز پنجشنبہ ، 21 جمادی الثانی 1434ھ ،بعد از نماز مغرب۔12/2/1392

مکان : دفتر بزم رافت ، مشہد مقدس، خیابان خسروی،- کوچہ بازار سرشور ، سرشور21، بلاک13، ساختمان حسنیہ۔

[ چهارشنبه یازدهم اردیبهشت 1392 ] [ 18:8 ] [ انجمن ] [ ]

عالمی سمینار  " باران رافت"

 مہمانان گرامی:

 حجۃ الاسلام والمسلمین الحاج سید زاہد احمد رضوی پرنسپل مدرسہ امیر المؤمنین

و خطیب نہج البلاغہ  عالی  جناب مولانا سید قنبر علی رضوی و دیگر شعراء کرام

زمان:16/ذیحجه، بروز جمعرات،   6 /بجے بعد از نمازمغرب و عشاء

مکان: سالن اجتماعات جامعه المصطفی العالمیه خیابان امام خمینی 14(بازارچه سراب)                                                  


موضوعات مرتبط: فعالیتهای انجمن، اخبار ادبی
[ چهارشنبه دهم آبان 1391 ] [ 19:7 ] [ انجمن ] [ ]
.: Weblog Themes By WeblogSkin :.
درباره وبلاگ

بزم رأفت
(انجمن شعر و ادب اردو زبان)
جامعه المصطفی(ص) العالمیه واحد مشهد مقدس
2563085-511-0098
09359750753
امکانات وب